ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں /  جمشید پور : وزیر صحت بنا گپتا کے جلوس میں پھنس گئی پانچ ایمبولینس،کیا ایمبولنس میں ہی مریض کی موت ہوگئی ؟

 جمشید پور : وزیر صحت بنا گپتا کے جلوس میں پھنس گئی پانچ ایمبولینس،کیا ایمبولنس میں ہی مریض کی موت ہوگئی ؟

Mon, 03 Feb 2020 17:58:16    S.O. News Service

 رانچی /3 فروری (آئی این ایس انڈیا)جمشید پور میں وزیر صحت بنّا   گپتا کے استقبال کا جام مریضوں کیلئے آفت بن کر ثابت ہوا۔ نامگے پل پر پانچ ایمبولنس گھنٹوں پھنسی رہیں،بالآخر ایک ایمبولینس میں سرائے کیلا کے مریض کی مبینہ طورپر موت ہو گئی۔ مریض کو ایم جی ایم سے گنگا میموریل ہسپتال لے جایا جا رہا تھا، لواحقین اور ایمبولنس ڈرائیور گڑگڑاتے رہے، لیکن جشن میں مگن کسی لیڈر یا کارکن نے ایک نہیں سنی۔ بتایا گیا ہے کہ بناّ حامیوں اور رشتہ داروں کے درمیان کہا سنی بھی ہوئی۔

وزیر صحت کا چارج سنبھالنے کے بعد پہلی بار بناّ گپتا اتوار کو جمشید پور پہنچے تھے اور شہر میں صبح 11 بجے داخل ہوئے۔خیال رہے کہ پورے شہر میں 14 فروری تک دفعہ 144 نافذ ہے، پھر بھی حامیوں کی بھیڑ جمع رہی، جشن میں پٹاخے چھوڑے گئے۔ اس دوران 5 ایمبولنس تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک پھنسی رہیں،ایمبولنس ڈرائیور خالد خان نے کہا کہ ایمبولنس کو باہر نکالنے کے لئے کئی بار کوشش کی، لوگوں  سے منت سماجت کی، مریض کی حالت کی دہائی دی، لیکن کسی کا دل نہیں پسیجا۔ جس کے بعد ایمبولنس میں ہی مریض کی موت ہو گئی۔لیکن اس واقعہ کا ایک دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ اس واقعہ کے بعد وزیر بناّ گپتا نے ڈرائیور کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔ ڈرائیور نے اپنے بیان میں کہا کہ جام میں پھنسنے سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے، وہ ’ڈیڈ باڈی‘لے کر جا رہا تھا۔ جام سے نکلنے کے لئے اس نے یہ حرکت کی۔مگر بی جے پی کے ریاستی ترجمان اس مبینہ واقعہ کو لے کر سیخ پا نظر آئے، انہوں نے کہا کہ مریض کی موت کے لئے وزیر صحت  بناّ گپتا براہ راست ذمہ دار ہیں، اس لیے وزیر اعلیٰ ان پر کارروائی کریں۔ ساتھ ہی جام لگانے  والوں کے خلاف قتل کی دفعہ 302 کے تحت کیس درج کیا جائے۔اس صورت میں وزیر اعلی ہیمنت سورین نے دمکا میں کہا کہ مجھے ابھی اس کی جانکاری نہیں ہے۔ اس کی تحقیق ہوگی، جو ذمہ دار ہوگا، اس پر کاروئی کی جائے گی۔


Share: